Pakistan and Future

Pakistan Politics

بھار آیََ تو

leave a comment »

بھار آیََ تو جیسے یکبار 

لوٹ آےَ ہیں پھر عدم سے

وہ خواب سارے ، شباب سارے

جو تیرے ھونٹوں پر مر مٹے تھے 

جو مٹ کے ھر بار پھر جیے ٰ تھے

نکھر گیےَ ھیں گلاب سارے

جو تیری یادوں سے مشکبو ھیں

جو تیرے عشاق کا لہو ہیں

ابل پڑے ہیں عذاب سارے

ملال احوال دوستاں بھی

خمار آغوش مہ و شاں بھی

غبار خاطر کے باب سارے

ترے ہمارے

سوال سارے ، جواب سارے

بہار آیَ تو کھل گیےَ ہیں

نیےَ سرے سے حساب سارے

Written by pejamistri

March 20, 2009 at 11:31 am

Posted in faiz

Leave a Reply